Time & Date

Ticker

6/recent/ticker-posts

aik haulnak safarایک ھولناک سفر

روایتوں  میں سفر کو ‘‘سقر’’(جہنم)کے مشابہ قرار دیا گیا ہے،اور ایسا ہے بھی۔اسی لیے  تو نماز میں ‘‘قصر’’کرنے کا حکم ہنوز باقی ہےاور صحابۂ کرام کی خواہش کے باوجود اس حکم کو منسوخ نہیں کیا گیا۔

ذرائع ترسیل و ابلاغ میں بہتات ہونے کےکی وجہ سے جدید انسان اپنے فرصت کے لمحات کو سفر میں گزارنا پسند کرتا ہے،کیوں کہ سامان سفر اور ذریعہ سفر میں راحت و سکون بلکہ سامان تسکین بھی مہیا ہے،وہ چاہتا ہے کہ کاروبار کے جھمیلوں سے بچ کر کچھ دن سفر میں گزار لینا چاہیے،تاکہ ذہنی سکون ہاتھ آجائے۔

لیکن صادق و مصدوق ﷺکا قول اپنی جگہ اٹل ہے،تمام تر راحت وسکون کے باوجود آج بھی کبھی کبھی سفر میں بہت سی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔اور لٹیروں،ٹھگوں اور اچکوں کا خوف اس پر مستزاد!

میرے اسفار نہایت محدود ہیں اور جوہیں بھی تعلیمی نوعیت کے ہیں،لیکن ان محدودترین اسفار میں بھی کچھ تلخ تجربات ہوئے ہیں۔وہ میرے ذہن وقلب پر اس طرح سے چھا گئے کہ جب بھی یا د آتے ہیں ،تو ایسا معلوم ہوتا ہےکہ گویا کل ہی کی بات ہے۔


۲۳؍اکتوبر ؁۲۰۱۱ء کی دوپہر تھی ،جب میں بھوپال اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر ۲ پر ،اپنے ہلکے پھلکے سفری بیگ کے ساتھ پہونچا تھا،رزرویشن ٹکٹ تو تھا نہیں ،اس لیے ارادہ یہ تھا جس گاڑی میں بھی جگہ مل جائے گی،اس پر سوار ہو لوں گا۔سامان سفر چون کہ  بہت کم تھا اس لیے  پلیٹ فارم کے ایک چھور سے دوسرے چھور تک چلنا شروع کیا،کبھی کبھی ‘‘بُک اسٹال’’پر کھڑا ہو کر کتابوں پر سرسری نظر ڈالتا اور لاشعوری طور پر کسی ایک اٹھالیتا اور ایک دوسطر پڑھنے کے بعد رکھ دیتا ۔۔انتظار تھا کسی ایسی گاڑی کا جو مجھے بھوپال سے لاد کر بستی تک پہونچا دے۔

اسٹیشن پر لگے‘‘ڈیجیٹل ٹائم ٹیبل’’سے پتہ چلا کہ اس طرف جانے والی گاڑیا ں اکثر دیری سے چل رہی تھی ،خدا خدا کرکے  ایک گاڑی پلیٹ فارم پر آئی اور دور ہی سے اس کی بدحالی کا اندازہ ہو گیا،کیوں کہ انسانوں کی بھیڑ بھاڑ اور کثرت کی وجہ سے پیدا ہونے والا تعفن اور بساندھ اس پر گواہی  دے رہا تھا ۔

گاڑی جب پلیٹ فارم پر رکی تو ایک لمحہ کے لیے مجھے سانس بھی روک لینا پڑا ،پھر دھیرے دھیرے سانس لینا شروع کیا اور آہستہ آہستہ ذہن کے لیے وہ بدبو شناسا ہوگئی۔خدا جانے کب ہندوستانی ٹرینوں کی حالت بہتر ہوگی۔

ٹرین میں عام ڈبے چھ تھے،سکینڈ کلاس دس اور اے ،سی چار یاچھ تھے،چونکہ اے سی ڈبوں سے ہمیں کوئی سروکار ہوتا نہیں ،اس لیے اس کی صحیح تعداد معلوم نہیں اور نہ معلوم کرنے کی کوشش کی۔

اندازہ یہ تھا وہ جنرل ڈبے جو انجن کے معاً بعد لگائے جاتے ہیں،ان میں بھیڑ کم ہوگی لہذا سرپٹ دوڑتا ہوا ٹرین کے اگلے حصہ کی طرف گیا،مگر پہونچ کر دیکھا تو یہ سمجھنے سے قاصر رہا کہ ٹرین میں انسان ٹھس گیے ہیں یا انسانوں میں ٹرین۔۔۔خیر یہ سمجھنے کا وقت تھا بھی نہیں،لہذا پھر ٹرین کے پچھلےحصہ کی طرف بھاگا اور وہاں جاکر دیکھا تو لوگ ایسے ہی ٹھسے یا گھسے جا رہے تھے جیسے کہ کسی بوریےبھُس بھرا جاتا ہو۔۔۔مرتاکیا نہ کرتا۔۔میں بھی اس میں ٹھسنے کے در پے ہو گیا۔۔گیٹ پر دو تین پہلوان قسم کے لوگ جمے ہوئے تھےاور لوگوں  کو گاڑی میں گھسنے سےروک رہے تھے،وہ بھی اس شان کے ساتھ کہ گویا پورےڈبہ  کابیع نامہ حاصل کر رکھا ہو۔ڈرتے ڈرتے میں بھی گیٹ کے پاس پہونچا ،آوازمیں قدرے خود اعتمادی پیدا کرتے ہوئے  میں نے کہا:‘‘مجھے بھی گھسنے دیجیے’’۔۔پتہ نہیں وہ لوگ مرعوب ہو گیے یا مولوی نما دیکھ کربخش دیا۔۔خیر کچھ بھی ہو ان لوگوں نے راستہ چھوڑ دیا۔کسی طرح دوسروں کو دھکا دیتے اور دوسروں سے دھکا کھاتے آخرکار ڈبے میں گھس ہی گیا۔

اکتوبر کا مہینہ تھا،وہ بھی آخری پڑاؤ پر ،موسم سرما کی آمد آمد تھی مگر جب ڈبے میں پہونچ گیا تو ایسا معلوم ہوا کہ جون،جولائی کا مہینہ ہو۔پورا جسم پسینہ سے تر بہ تر،اور یہی حال تقریباً سبھی کا تھا ،لہذاپسینہ سے اٹھنے والی بدبونے اس ڈبے کو جہنم کا جواب بنا دیا تھا۔یہ حال اس وقت تک باقی رہا جب تک گاڑی نے پلیٹ فارم نہ چھوڑا۔گاڑی کے چلنے سے کچھ تازہ ہواآئی اور راحت نصیب ہوئی مگر پسینے کی بدبو بدستور باقی تھی اور کبھی کبھی مرگولے کی شکل میں باہر سے آنے والی بدبو اس پر مستزاد!


ڈبے کے اندر مساروں کی حالت نہایت ابتر تھی،لیکن شاید کچھ لوگ بہت مشّاق قسم کے عام ڈبے کے مسافر تھے ،وہ گیٹ پر جم گیےچٹکھار لے لے کر محو گفتگو ہو گیے،غالباً گفتگو  کی نوعیت  آپ سمجھ گیے ہوں گے، بازار والیوں سے لے کر چلمن والیاں تک سب موضوع بحث بنیں وہ بھی حد درجہ بھونڈے اور غیر مہذب انداز میں،مجھے شاعروں،ادیبوں  پر غصہ آتا اور کبھی رحم۔۔غصہ تو اس لیے کہ انھوں نے اپنے کل افسانوں ،نظموں اور غزلوں کو ایسی ہستی کی نذر کر دیا،جس کی حیثیت اتنی بھر ہے اور انھوں نے بہت ہی بڑھا چڑھا کر پیش کی ہے اور رحم اس لیے کہ ان لوگوں نے جس کے ہر ہر عضو کے لیے نہ جانے کتنی محنت و مشقت برداشت کرکے کہاں کہاں سے استعارے او ر کنایے لے کر آئے اور پوری زندگی اسی کی یاد  میں روتے ،بلبلاتے اور اس کے مظالم کو برداشت کرتے رہے،اس کی حیثیت اتنی بھر ہے کہ ایک بدبودار ‘‘جنرل ڈبے’’کے چند من چلے اس کا پوسٹ مارٹم کرتے پھریں۔۔ کافی دیر تک ان کی گفتگو سنتا رہا اور یقین کیجیےبھیڑ اتنی تھی کہ میرے پیر قاعدے سے گاڑی کی نچلی سطح پر نہیں پڑ رہے تھے،اتفاق سے میرے پیروں کے پاس ایک سامان سے بھرا ہوا بوریا آگیا ،کسی طرح اس پر چڑھ گیااور چونکہ میراقدوقامت ابھرتا ہواہے یعنی میں بونے قد کا آدمی نہیں ہوں اس لیے دیگرمسافروں کے سروں سے میرا سر اونچا ہو گیا،یہاں پر‘‘سراونچاہونا’’بطورِمہاورہ استعمال نہیں بلکہ اپنےاصلی معنی میں کیوں کہ وہاں کوئی ایسی واردات تو ہوئی نہیں جس کی وجہ سے میرا سر اونچاہو جاتا کیونکہ وہاں پر سرصرف اسی کااونچاتھا جو تنومند اورتگڑا تھا ۔لہذاانھیں تگڑوں میں سے ایک آیا اور اس بوریےسے دھیرے دھیرے ہٹا دیا وہ بھی اس طرح کہ میں احتجاج بھی نہ کر سکااور عرش سے فرش والی کہاوت صادق آگئی،لیکن میں ہمت ہارنے والوں میں سے نہ تھا،کسی طرح ڈبے کے دروازےکے پاس آیا جو کہ پوری طرح سے اندر کی جانب کھلا ہوا تھااور اس کو پکڑ کر کھڑا رہا،یہاں تک مجھے آگے پیچھے جھولتے دیکھ کر  ایک صاحب سےرہا نہ گیا ،انھوں نےللکارا:‘‘ارے میاں!دیکھتے کیا ہو ؟چڑھ جاؤدروازےپر’’۔میں بھی نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ،چڑھ گیا دروازے پر ۔۔!!

ڈبے کے دروازے اور چھت  میں زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ یا دو فٹ کا فاصلہ رہاہوگا،اب اس ڈیڑھ یا دو فٹ کے خلا میں چھ فٹ کا انسان کیسے سمایا ،یہ آپ خود اندازہ کیجیے،پوری طرح سے ٹیڑھے بیٹھے بیٹھے جسم کی ایک  ایک ہڈی میں اسی طرح کا درد ہونے لگا جس طرح غالباً دوجہ دو میں اوقات درس میں گلّی ڈنڈا کھیلنے کی سز ا میں مرغا بننے کی وجہ سے ہوا تھا۔کافی دیر تک اسی حالت میں پڑا رہا اور ماضی کی غلطیوں کو یاد کرتا رہا،ان پر نادم ہوتا رہا اور توبہ بھی کرلینے سے نہیں چوکا،بہر حال ذہن کو ادھر ادھر کی باتو ں میں الجھائے رکھنے سے یہ فائدہ ہوا کہ جسم کے درد کا احساس کم ہو گیااور پوری توجہ ذہنی الجھنوں کی نذر ہو گئی ۔

اس طرح سے جھانسی اسٹیشن پر گاڑی رکی ،بغیر کسی پس و پیش کے میں اسٹیشن پر اتر پڑا،گرمی اور بدبو کی وجہ سے ابکائی آنے لگی تھی، ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے قئے ہو جائے گی مگر ایسا ہو ا نہیں،دماغ صاف کرنے کے لیےکینٹین سے ایک‘‘کولڈ ڈرنک’’لیا ،گٹا گٹا چڑھا گیا،گاڑی  پلیٹ فارم چھوڑنے لگی مگر دوبارہ گھسنے کی ہمت نہ ہوئی،اور گاڑی نکل بھی گئی،تب جاکر ہوش آیا کہ اب کیا کرنا چاہیے ،پوچھ تاچھ کھڑکی پر گیا اور دریافت کرنے پر معلوم ہو ا کہ لکھنؤ کے لیے ایک ٹرین ہے ،خیر کچھ حد تک اطمینان نصیب ہوا اور پلیٹ فارم پر بنے بینچ پر دراز ہو گیااور سو گیا۔

آنکھ اس وقت کھلی جب ‘‘پشپک اکسپریس’’ کی سیٹی سنائی پڑی اور اٹھ کر گاڑی میں سوار ہو گیا،اس گاڑی کی حالت بہر کیف پہلی والی سے بہتر تھی،لکھنؤ پہونچ کر ‘‘بس’’کے ذریعہ میں بستی کے لیے روانہ ہو گیا کیوں کہ ٹرین سے سفر کرنے کی سکت باقی نہ رہ گئی،بستی پہونچ کر گھر کے لیے سواری کیا ۔۔سوچ رہا تھا کہ جسم کا کوئی پرزا خراب تو نہیں ہوا۔۔۔۔؟
(غلام سید علی علیمی علیگ)
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی ،بستی



Post a Comment

0 Comments