Time & Date

Ticker

6/recent/ticker-posts

FATAWA RIZWIYA KI ISHAAT MIAN BAHARUL ULOOM ALAIHIR RAHMAH KI KAVISHEN

فتاوی رضویہ کی اشاعت میں بحر العلوم کی کاوشیں
از:غلام سید علی علیمی علیگ

صاحب فتاوی رضویہ:

نہ مرا نوش زتحسیں ،نہ مرا نیش زطعن
نہ مرا گوش بمدحے ،نہ مرا ہوش ذمے
منم وکنج خمولی کہ نہ نگنجد دروے
جز من و چند کتاب و دوات و قلمے
    مذکورہ اشعار میں ایک امام نے اپنی زندگی کی عکاسی نہایت ہی حسین انداز میں کرنے کی کوشش کی ہے۔نہ انہیں کسی قدر داں کی قدردانیوں کی حاجت ہے اور نہ ہی کسی کی زبانِ طعن دراز کا خوف نہ کسی کی مدح وستائش کے خواستگار ہیں ،نہ ہی مذمت سے خائف ۔ان کا معاملہ تو یہ ہے کہ وہ کچھ کتابوں، ایک دوات اور ایک عدد قلم لے کر ایسی کوٹھری میں بیٹھ جاتے ہیں کہ اس میں کسی اور کے لیے گنجائش ہی نہیں رہ جاتی۔۔
    یہ زندگی تھی اعلی حضرت امام احمد رضا خاں قدس سرہ، کی کہ ان کی پوری زندگی تصنیف و تالیف،تحقیق و تدقیق اور امت کے مسائل کو حل کرنے میں بسر ہوئی ۔آپ نہ صرف یہ کہ علوم دینیہ میں مہارت رکھتے تھے بلکہ ان علوم میں بھی دستگاہ کامل رکھتے تھے جن سے عام طور علما کا کوئی علاقہ نہیں ہوتا ۔علامہ عبد الحکیم شرف قادری علیہ الرحمہ کے الفاظ میں :
    ''امام احمد رضا بریلوی مروجہ علوم دینیہ مثلاً تفسیر، حدیث، فقہ، کلام، تصوف، تاریخ، سیرت، معانی ،بیان، بدیع، عروض، توقیت ،منطق،فلسفہ وغیرہ کے یکتائے زمانہ فاضل تھے ،صرف یہی نہیں بلکہ طب، علم جفر، تکسیر، زیجات، جبر ومقابلہ ،لوگارثم،جیومیٹری،مثلث کروی وغیرہ علوم میںبھی مہارت رکھتے تھے ۔یہ وہ علوم و فنون ہیں جن سے عام طور پر علماتعلق ہی نہیں رکھتے۔انہوں نے پچاس سے زیادہ علوم و فنون میں تصانیف کا ذخیرہ یادگار چھوڑا اور ہر فن میں قیمتی تحقیقات کا اضافہ کیا۔۔(فتاوی رضویہ ج
١،مرکز اہل سنت برکات رضا،پوربندر،گجرات)
    بایں ہمہ آپ کا اصل میدان فقہ وافتا تھا،بطورِ فقیہ اگر آپ کا ہم سر تلاش کیا جائے تو اس قحط الرجال کے زمانے میں کجا دوچار صدی قبل بھی آپ کے قد کا کوئی مل پانا نہایت مشکل ہے ،آپ کی فقہی بصیرت کا اعتراف کرتے ہوئے مولانا ابو الحسن ندوی کو لکھنا پڑا کہ :''ان کے زمانے میں فقہ حنفی اور اس کی جز ئیات پر آگاہی میں شاید ہی کوئی ان کاہم پلہ ہو ،اس حقیقت پر ان کا فتاوی اور ان کی کتاب کفل الفقیہ شاہد ہے جو انہوں نے مکہ معظمہ میں لکھی ۔''(فتاوی رضویہ جلد اول ،ابتدائی صفحات،مطبوعہ مرکز اہل سنت برکات رضا ،پوربندر ،گجرات)
ایک وہابی مولوی ،نظام الدین احمد پوری چیخ اٹھتا ہے:''علامہ شامی اور صاحب فتح القدیر مولانا کے شاگرد ہیں،یہ تو امام اعظم ثانی معلوم ہوتے ہیں''۔(ایضاً بحوالہئ سوانح سراج الفقہا)
یہیں پر بس نہیں مولانا مودودی کا کہنا ہے:''مولانا احمد رضا خاں صاحب کے علم و فضل کا میرے دل میں بڑا احترام ہے، فی الواقع وہ علوم دینی پر بڑی وسیع نظر رکھتے ہیںاور ان کی اس فضیلت کا اعتراف ان لوگوں کو بھی ہے جو ان سے اختلاف رکھتے ہیں''(ایضاً)
فتاوی رضویہ کی اشاعت اور حضرت بحر العلوم :
    اعلی حضرت امام احمد رضا کے فتاوے اولاً بارہ ضخیم جلدوں میں شائع ہوئے اور پھر ترجمہ کے ساتھ مکمل تیس جلدوں میں شائع کیا گیا ،لیکن یہ بات یاد رکھنے کی ہے یہی آپ کے کل فتاوے نہیں ہیں بلکہ یہ بارہ یا تیس جلدیں آپ کے کل فتاوی کا ایک دسواں حصہ بھی نہیں جیسا کہ اس موضوع پر سند کا درجہ رکھنے والی شخصیت نے لکھا ہے کہ:''ابتدائی بارہ سال کے فتاوی کی نقل آپ نے محفوظ نہیں رکھی بعد کے فتاوی کا بھی دسواں حصہ محفوظ رہ سکا جو
١٣٢٧؁ھ تک سات خریطوں میں جمع ہوا تھا ۔سائز ٢٦/٢٠ کے چار صفحہ اور ہر خریطہ کے کل صفحات کی تعداد چودہ سے سولہ سو تک تھی ،جلدوں کی ضخامت کا خیال کرکے احباب اور علما کے مشورہ سے اس کو بارہ جلدوں میں تقسیم کیا۔اس کے بعد بھی آپ نے تیرہ سال تک فتاوی تحریر فرمائے۔''(مقدمہ فتاوی رضویہ جلد نہم)
    لیکن یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ آپ کے حیات میں ا ن گراں قدر فتوؤںکی ایک سے زیادہ جلد زیور طبع سے آراستہ نہ ہو سکی ،اس کے بعد دوسری جلد کی طباعت عمل میں آئی اور پھر موجودہ جلدوں کے اعتبار سے پانچویں جلد شائع ہوئی۔اس کے بعد اشاعت کا سلسلہ کچھ اس قدر بند ہوا کہ مسودہ کرم خوردہ ہونے لگااور بعض جگہوں سے عبارتیں بھی غائب ہونے لگیں۔فتاوی رضویہ کی شروعاتی اشاعت کی تفصیل حضور بحرالعلوم مفتی عبد المنان صاحب علیہ الرحمہ کی زبانی سنئے جن کی اس ضمن میں ایسی خدمات ہیں کہ اس کو مٹا پانا گردش زمانہ کے بھی بس کا روگ نہیں،فرماتے ہیں:''اس فقید المثال فتاوی کی اشاعت
١٣٢٧ھ میں ہی شروع ہوئی ،چنانچہ پہلی جلد آپ کی زندگی ہی میں ١٣٣٥ھ کے لگ بھگ مکمل ہو گئی ،تقریباً نو سال کے بعد ١٣٤٤ھ میں صدر الشریعہ حضرت مولانا امجد علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے دوسری جلد بھی مطبع اہل سنت بریلی شریف سے شائع کی۔
    علما اور احباب کی ترتیب کے اعتبار سے جلد چہارم کا آخری حصہ اور شائع شدہ جلدوں کے لحاظ سے جلدوں کے لحاظ سے جلد پنجم کا ابتدائی حصہ یعنی کتاب النکاح
١٣٤٥ھ یا ١٣٤٧ھ تک مکمل ہوا۔''
    اس کے بعد اس کا سلسلہ مکمل بند ہو گیا اور نہ ہی اصحاب خیرمیں سے کسی نے اس کی جانب توجہ کرنے کی زحمت کی اورنہ ہی کسی صاحب علم کے حصہ میں اس کے لیے کمر بستہ ہونا نصیب آیا ، جو لوگ ان فتوؤں کی اہمیت و افادیت سے آشنا رہے ہوں گے وہ اس کی اشاعت کو اپنی مجلسوں میں موضوع بحث ضروربنا تے رہے ہوں گے،اور وہ لوگ جو علوم دینیہ اور علوم مصطفویہ کی ترویج واشاعت کو دیکھ کر جھوم جایا کرتے ہوں گے ان کو یہ فکر ضرور کھاتی رہی ہوگی کہ تناا بڑا سرمایہ اور علم و فن کا مرقع ضائع ہو رہا ہے۔ مگر مکمل
٢٩ سال تک وہ ارجمند گھڑی نہ آئی جس میں ''العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ ''کی بقیہ جلدیں طباعت کے مرحلے سے گزر کراپنے گونا گوں علمی اور تحقیقی مشمولات سے علما اور عوام دونوں کے لیے سامانِ فیض مہیا کرتیں ۔
    بڑے باہمت اور نباض تھے وہ لوگ جنہوںنے ان جلدوں کی اشاعت میں اپنی مساعی جمیلہ کو پیش کیا ،بلا شبہ وہ نفوس قدسیہ انقلاب آفریں فکروں کی حامل تھیں جنہوں نے ان فتاوی کی اشاعت کو اپنا سب کچھ بنایا،جس نے جہانِ علم و فضل میں انقلاب برپا کردیا،اس عظیم کام میں جن حضرات کا نام لیا جاتا ہے ان میں حبر الامت علامہ عبد الرؤف علیہ الرحمہ اور ان کے شاگرد رشید بحرالعلوم علامہ مفتی عبد المنان صاحب علیہ الرحمہ کی شخصیت سب سے زیادہ نمایاں حیثیت رکھتی ہے،ان حضرات کی اس ضمن ایسی خدمات ہیں کہ اگر پوری امت بیٹھ کر ان کو ہدیہ تشکر و امتنان پیش کرے تب بھی ان کے احسان گراں بار عہدہ برآہونا مشکل ہے۔
    فتاوی رضویہ شریف کی جیسا کہ بیان ہوا کہ پہلی،دوسری اور پانچویں جلد کی اشاعت پہلے ہی ہو گئی تھی،اس کے بعد علامہ عبد الرؤف علیہ الرحمہ نائب شیخ الحدیث الجامعۃ الاشرفیہ وبانی سنی دارالاشاعت مبارکپور نے اپنے چند ہم نواؤں ساتھ مل کر تیسری اور چوتھی جلدکی اشاعت کی جس میں بحرالعلوم علامہ مفتی عبد المنان صاحب علیہ الرحمہ اور حضرت علامہ شفیع اعظمی صاحب علیہ الرحمہ کی خدمات آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔اس کے بعد جو بھی جلدیں منظم شکل میں شائع ہوئیں ان تمام میں حضرت بحرالعلوم کی کاوشیں نا قابل ِ فراموش ہیں،چار جلدوں (پانچویں ،چھٹی،ساتویںاورآٹھویں )کی تدوین و ترتیب ،تہذیب وتبویب سے لیکر طباعت و اشاعت تک خالص آپ کی کوششیں ہیں ،اس کے علاوہ فتاوی رضویہ کی اُس ایک بارگی اشاعت میں جو رضا اکیڈمی ممبئی نے اعلی حضرت امام احمد رضا کے
٧٥ویں عرس کے موقع پر مکمل بارہ جلدوں میں کرایا تھا اور جس میں کلیدی کردار حضرت علامہ حنیف صاحب قبلہ مد ظلہ النورانی کا تھا اس میں بھی رہنمائی ،مشورہ اور اس علاوہ ہر ممکن طریقہ سے آپ نے اپنی خدمات پیش کی تھیں۔ذیل سطور میں آپ کی انہی خدمات کا ایک مختصر جائزہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں گو کہ میں اس کا اہل ہرگز نہیں ۔۔۔
    حضرت بحر العلوم نے فتاوی رضویہ شریف کی اشاعت میں ایک جامع رول ادا کیا ہے ،آپ نے معاون کے طور پر بھی کام کیا ہے اور از خود بھی علاوہ بریں ان لوگوں کی سرپرستی بھی کی ہے جو اس کار ِ خیر میں کوشاں ہوئے ۔
فتاوی رضویہ کی اشاعت میں آپ کی بطورِ معاون خدمات:حبر الامت علامہ عبد الرؤف علیہ الرحمہ نے آناً فاناً ایک اشاعتی ادارہ ''سنی دارالاشاعت''کے نام سے قائم کردی ،جس پر حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ نے خوشی کا اظہار کیا تھا اور ہر طرح سے معاونت کی یقین دہانی کی تھی ۔اس اشاعتی ادارے کے قیام کا مقصد کیا تھا؟ اس کے یکا یک معرض وجودمیں آجانے پیچھے کیا راز تھا ؟اس کا اصلی ہدف فتاوی رضویہ کی اشاعت تھی ۔ہوا یہ کہ شہزادہئ اعلی حضرت حضور مفتی اعظم ہند مولانا شاہ مصطفی رضاخاں صاحب رحمہ اللہ کی آمد الجامعۃ الاشرفیہ میں ہوئی یہ کوئی ١٣٧٩یا١٣٨٠ھ کا زمانہ رہا ہوگا۔علامہ عبدالرؤف صاحب علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ :''ان سے (مفتیئ اعظم ہند)عرض کی گئی :''فتاوی رضویہ کی اشاعت کا کوئی انتظام ہوا؟''۔آپ نے فرمایا :''تم لوگوں کے سوا کس سے اس کی توقع ہو سکتی ہے؟''اس کرامت آثار جملے نے دلوں میں ہمت اور عزائم میں استواری پیدا اور دارالعلوم اشرفیہ کی رہنمائی میں کام شروع کیا اور'' سنی دارالاشاعت'' کی بنیاد رکھی گئی۔ ''(فتاوی رضویہ ج٣،مقدمہ ،رضا اکیڈمی ممبئی)
    دلوں میں ہمت اور عزائم میں استواری تو پیدا ہو گئی مگر ظاہر ہے یہ کام کسی تنہا شخص کا نہیں ،لہذا جن لوگو ں نے سب سے پہلے اس نیک کام میں علامہ عبد الرؤف کا ساتھ دینے کا عزم کیا اس میںعلامہ بحرالعلوم صاحب ،علامہ شفیع اعظمی صاحب اور حضرت قاری یحیی صاحب علیہم الرحمہ کانام سب سے اوپر آتا ہے ۔
    بریلی شریف سے فتاوی رضویہ شریف کا جو مسودہ دستیاب ہو ا تھا وہ نہایت ہی بوسیدہ حالت میں تھا ،بعض جگہوں سے عبارت ہی غائب تھی ،پروف ریڈنگ اور تصحیح میں اس کو پر کرنا تھا ،جہاں کتابوں کے حوالے درج ہوتے وہاں اصل سے مقابلہ کی ضرورت تھی ،اندازہ کیجئے یہ کام کتنا محنت طلب اور کس درجہ عرق ریزی کا خواہاں تھا ،خود بحر العلوم علیہ الرحمہ کے الفاظ میں یہ کام نہایت مشکل اور دقت طلب تھا ،لیکن علامہ عبد الرؤف علیہ الرحمہ اور حضرت بحرالعلوم علیہ الرحمہ نے اس مرحلہ کوبھی بڑی خوبی کے طے کر لیا اوراس ضمن میں خاطر خواہ داد تحقیق دی ۔اس طرح علامہ عبد الرؤف علیہ الرحمہ کے ساتھ آپ نے تیسری جلد(
١٣٨١ھ )اورچوتھی جلد(١٣٨٧ھ) کی اشاعت میں اپنی گراں قدر خدمات پیش کیں۔
    اس عظیم کام میں ہمت ،عزم اور حوصلہ کے علاوہ جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت تھی وہ تھا سرمایہ ۔اوریہی چیز تھی جس کی کمی تھی ۔اس کمی کو پورا کرنے لیے کے ان بزرگوں نے علاقائی چندہ کرنے کی راہ نکالی ۔جن لوگوں کو چندہ کرنے کا اتفاق ہوا ہے ان کو اندازہ ہوگا کہ یہ راستہ کتنا پر خار ہے ،لیکن سلام ہو ان بزرگوں کے مردانہ وار عزم پر کہ انہوں نے فتاوی رضویہ کی اشاعت کے لیے اس راستہ کو بھی پار کر لیا گوکہ بہت ہی تلخ تجربات کے ساتھ۔حضرت بحرالعلوم خود ایک ہولناک تجربہ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:''ابراہیم پور ،خیرآباد اور محمد آباد کسی پنجشنبہ کی تعطیل میں کا م ہوا ،بارش ہو رہی تھی اور ہم لوگ دروازہ دروازہ پھر کر چندہ وصول کر رہے تھے ،محمد آباد مبارک پور سے چھ میل کی دوری پر ہے ،یہ پورا راستہ پیدل جزوی طور پر بھیگ کر طے کیا گیا ،مغرب کے وقت خیرآباد سے فرصت ہوئی ،خیال ہوا آج رات میں ہی محمد آباد کا کام بھی نپٹا لیا جائے ،ہم لوگ پانچ چھ آدمی تھے ،سوچا گیا اتنے آدمیوں کا بار بلا وقت کسی پر ڈالنا اچھا نہیں،محمد آباد بازار میں بھٹیار خانہ میں گیے ۔آج
٢٨ سال بعد بھی اس کھانے کی ناگواری اسی طرح یاد ہے گویا کل کا واقعہ ہے ،وہ رات نیم گرسنگی کی حالت میں ہی گزری۔(مقدمہ فتاوی رضویہ ج٧،ص٣)
فتاوی رضویہ کی اشاعت میں بحرالعلوم علیہ الرحمہ کی بطورِ ذمہ دارجد و جہد : ١٣٩١ھ میں جب حضرت علامہ عبد الرؤف صاحب علیہ الرحمہ (بانی سنی دارالاشاعت ،مبارکپور) اللہ کو پیارے ہو گئے تو سنی دارالاشاعت کے ساتھ فتاوی رضویہ کی اشاعت کی بھی ذمہ داری حضرت بحرالعلوم علیہ الرحمہ کے سر آئی ،سنی دارالاشاعت کی ذمہ داری سے تو آپ سبک دوش ہو گئے مگر فتاوی رضویہ کی ترتیب و تدوین ،تہذیب و تبویب کی چاہت آپ کے دل میں اس قدر بس گئی کہ اس ذمہ داری سے تا حیات سبک دوشی کی خواہش نہ کی کیونکہ آپ بذاتِ خود بحر فقاہت کے آب دار گہر تھے تو بھلافتاوی رضویہ جیسے فقہ و افتا کے بحربے کراں سے نکل کر آپ کو چین کہا ں ؟اس راہ میں آپ کو علمی مشکلات کے علاوہ عملی مصائب سے بھی دو چار ہونا پڑا ۔چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
    سنی دارالاشاعت کی ذمہ داری جوں ہی آپ سے سر آئی آپ کو بہت ساری مشکلات سے دو چار ہونا پڑا ،اس میں سب سے بڑامسئلہ پریس والوں کا غیر ذمہ دارانہ رویہ تھا،ہوا یہ کہ حضرت علامہ عبد الرؤف صاحب علیہ الرحمہ نے اپنی حیات میں ہی فتاوی رضویہ پنجم کو اشاعت کے لیے نامی پریس لکھنؤ کے حوالہ کر دیا تھا،جس کے
٩٦ صفحات چھپ چکے تھے ٤٣٣صفحات تک کتابت ہو چکی تھی اور تقریباً ٦٦ ریم کاغذ پریس کے پاس موجود تھا لیکن اسی دوران نامی پریس کے مالک خواجہ شمس الدین صاحب کا انتقال ہو گیا اور پریس ان کے لڑکوں کے انتظام میں آ گیا،پریس کا منیجر غالی قسم کا دیوبندی تھا،اس پر فتاوی رضویہ کی اشاعت ناگوار گزرتی تھی ،اس لیے اس نے اس کام کو تعویق میں ڈال دیا
    حضرت بحر العلوم علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :''ہم لوگ لکھنؤ آتے جاتے رہے ۔تجربہ سے اندازہ ہوا کہ نامی پریس کا منیجر صاحب اس کو چھاپنا نہیں چاہتے یا چھاپ نہیں سکتے ۔اس لیے کتاب پھر سرفراز پریس میں اٹھا لائے ۔جس کی قیمت ہم کو یہ ادا کری پڑی کہ
٩سو روپیے اور ٢٥ ریم کاغذ اب بھی نامی پریس کے ذمہ ہے اور بار بار تقاضا کے باوجود منیجر صاحب نرم لہجے میں ہم کو ٹال دیتے ہیں۔وہ سوچتے ہوں گے یہ مولوی لوگ پھر پردیسی ہمارا کیا بگاڑ سکتے ہیں ۔۔ اس منیجر کی وجہ سے حضرت کو بہت مصیبتیں جھیلنی پڑیں جیسا کہ خود لکھتے ہیں :''٦٦صفحات کی دوبارہ کتابت کرانی پڑی ،سو پلیٹوں کی زائد اصلاح سنگی،کوئلوں کا دام بھرنا پڑا ۔١٠٥ریم کاغذ کا دام طے شدہ نرخ سے ١٥ روپئے زائد فی ریم ادا کرنا پڑا ۔اس مدت میں کتنی بار لکھنؤ آنا جانا پڑا ،اس کا کوئی حساب نہیں۔۔(ماخوذمقدمہ فتاوی رضویہ ج٥ ص٢٤،رضا اکیڈمی ممبئی)
    اس واقعہ کے بعد حضرت نے پریس والوں کے متعلق آپ کو ایک خاص نظریہ قائم کرنا پڑا کہ یہ لوگ پریشان بھی کرتے ہیں پھر بھی کام ٹھیک ٹھاک نہیں کرتے،یہ اس بات سے ظاہر ہے کہ چھٹی جلد کی طباعت میں پریس کا مالک نسبتاً بہتر واقع ہوا تو اس پر حضرت بحر العلوم علیہ الرحمہ اپنے مخصوص انداز میں چوٹ کیا ہے رقم فرماتے ہیں:''پریس بھی ہم کو اس دفعہ ایسا ملا جس کا مالک شاہد پریس والوں کی روش سے علیحدہ ہے یا جو ابھی نیا نیا اس میدان میں آیا ہے ورنہ ہم کو تو اس حمام سب ننگے نظر آئے۔(مقدمہ رضویہ ج
٦ ص٣،رضا اکیڈمی ،ممبئی)
    اسی طرح حضرت بحر العلوم کو کاتبوں سے بھی بہت نالاں ہونا پڑا ،ایک مرتبہ تو کاتب بالکل نامی پریس کے منیجر کی طرح دیوبندی ملا اس کے ساتھ بھی بہت ہی دلچسپ واقعہ پیش آیا خود حضرت بحر العلوم کی بلیغ تعبیروں کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں،فتاوی رضویہ جلد ہشتم کے تعلق سے فرماتے ہیں کہ :''اس کی کتا بت مولوی نظام الدین گوپال گنج کی ہے ،جو اپنے مذہب میں اس درجہ سخت واقع ہوئے ہیں کہ پوری کتابت میں جہاں بھی وہابی یا دیوبندی کا لفظ آیا یا ان کے عقیدہ اور مسلک کی تردید ہوئی اس کو انہوں نے چھوڑ دیا اور دوسرے کاتب سے ہمیں اس کو لکھوانا پڑا۔(مقدمہ فتاوی رضویہ ج
٨،رضا اکیڈمی ممبئی)
    حضرت بحرالعلوم علیہ الرحمہ نے آٹھویں جلد کے بعد کی اشاعت میں کیا رول ادا کیا یا یہ کہ حضرت علامہ حنیف قادری مد ظلہ نے باقی جلدوں کی اشاعت میں آپ کی ذات با برکات سے کس حد تک اکتساب فیض کیا۔اس کو تو بہتر ڈھنگ سے حضرت علامہ حنیف صاحب قبلہ ہی بیان کر سکتے ہیں۔
     جب علامہ بحرالعلوم کی قدآور علمی شخصیت کی جانب نگاہ کرتے ہیںتو آپ بقولِ علامہ بدرالقادری ''محدث و مفتی ،معلم و مدرس ،خطیب و مقرر اور ادیب و شاعر ''(حیات حافظ ملت ص
١٦٣)ہیںاگر چاہتے تو جتنا وقت دے کر فتاوی رضویہ کی تدوین کی ہے اس کے کم وقت میں ہی آپ جہانِ تصنیف میںاپنی مستقل تصانیف کا اضافہ کر دیتے ،مگر حضرت علامہ عبد الحکیم شرف قادری علیہ الرحمہ کے الفاظ میں :''آفریں ہے ان کی ہمت مردانہ پر کہ انہوں نے اپنی توانائیاں اور علمی صلاحیتیں دورِ حاضر کے اس عظیم فتاوی کی اشاعت پر صرف کردیں۔۔''(مقدمہ فتاوی رضویہ ،مرکز اہل سنت برکاتِ رضا پوربندرص٢٢
)
آخری بات :مذکورہ سطور میں میں نے فتاوی رضویہ کی اشاعت میں حضرت بحرالعلوم علیہ الرحمہ کی خدمات کا نہایت ہی مختصر بلکہ حد درجہ ناقص جائزہ لیا ہے ،مگر مذکورہ باتیں اتنا ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ فقہ حنفی کے اس انسائیکلوپیڈیا کی اشاعت میں ابتدائی کوشش کرنے والوں کے سرخیلوں میں حضرت علامہ عبد الرؤف صاحب علیہ الرحمہ کے بعد حضرت بحرالعلوم علیہ الرحمہ کا نام سب سے واضح ہے ۔لیکن افسوس ہے کہ آپ کی کوششوں سے پورا فائدہ اٹھانے کے باوجود بھی بعض مرتبین اور مطبع والوں نے آپ کا نام پتہ نہیں کیوں ذکر کرنے سے گریز کیا ہے،ہم ان مرتبین کی علمی کوششوں کو سراہتے ہیں مگر کیا یہ ناانصافی نہیں کہ جن لوگوں نے دیمک کی غذا ہوتے فتاوی رضویہ کو صاف ستھرا کرکے قوم کے سامنے پیش کیا ،ناقابلِ قرات عبارات کو اپنی علمی لیاقت کے بل بوتے پڑھ لیا ،صفحہ سے غائب شدہ الفاظ کا سراغ لگا لیا ،دوڑ دھوپ کر لاپتہ رسالوں کی حتی المقدورتلاش و جستجو کی اور ان کو اپنی فقہی بصیرت سے ان کے لیے موزوں جگہ پر رکھی ،کیا یہ زیادتی نہیں ہوگی کہ ان بزرگوں کا نام یا تو سرے ذکر ہی نہ کیا جائے یا بہت ہی ہلکے پھلکے اور پھسپھسے انداز میں ۔اگر کوئی کہے کہ یہ سب تو حضرت بحرالعلوم علیہ الرحمہ کی حیا ت ہی میں ہو چکا تھا ،تو عرض ہے کہ وہ بے لوث خدمت کرنے والوں میں سے تھے ،وہ ان لوگوں میں سے تھے جو کام سے مطلب رکھتے تھے نام سے نہیں۔لیکن ہم عقیدت کیش ہیںاب جب کہ حضرت بحر العلوم ہمارے درمیا ن نہ رہے تو ہمارا یہ اخلاقی فریضہ ہے کہ ان کے کارناموں کو عام سے عام تر کریں ،ان تمام مطابع اورمرتبین کو چاہیے کہ فتاوی رضویہ کی ترتیب یا اشاعت میں ان بزرگوں کی کوششوں اور خدمات کو جلی حروف سے لکھیں۔

شائع شدہ:ماہنامہ پیامِ رضادسمبر
٢٠١٢ئ/پیغامِ رضا کا بحر العلوم نمبر٢٠١٢ء

Post a Comment

0 Comments