Time & Date

Ticker

6/recent/ticker-posts

مولانا اشفاق احمد صاحب قبلہ نہ رہے


آہ!شفق بستوی

    ضلع بستی کے مشہور و معروف عالم دین ،استاذ الاساتذہ حضرت مولانا قاری محمد اشفاق احمد صدیقی یار علوی صاحب قبلہ شفق بستوی اس سراے فانی کو چھوڑ کر دارِ جاودانی طرف کوچ کر گئے۔اس خبر نے ایک جہان کو بے قرار کر دیا ،بہتوں پر تو سکتہ طاری ہو گیا،جن میں ایک میں بھی تھا،یقین نہیں آرہا تھا اور نہ ہی دل کہہ رہا تھا کہ اس پر یقین کر لیا جائے،مگر شدنی کو کیسے ٹالا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔؟
    بڑی خوبیوں کے مالک تھے شفق بستوی(اللہ ان کی قبر کو رحمت ونور سے بھر دے )رب تعالیٰ نے اپنے خزانۂ بے بہا سے آپ کو حظّ وافر عطا کیا تھا۔آپ با کمال مدرس ،عمدہ مقرر، لاجواب قاریئ قرآن ،خوش گلو نعت خواں ،قادر الکلام نعت گو اور سب سے بڑی بات متصلب عالم با عمل تھے،حمیت دین آپ کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ،پوری زندگی بد مذہبوں سے نبرد آزما رہے۔
    آپ حضرت علامہ بدر الدین احمد اور حضرت علامہ غلام جیلانی اعظمی علیھما الرحمہ جیسے بافیض اساتذہ سے تربیت یافتہ اور شعیب الاولیا جیسے مرد ِ کامل سے فیض یافتہ تھے۔ان بز رگوں کے فیوض و برکات نے آپ کی ذات میں کچھ اس طرح اثر کیا کہ آپ نے خدمت دین کے لیے خود کو وقف کر دیااور خلق کثیر نے آپ کے پر اثر وعظ و بیان ،درس و تدریس سے اصلاح فکر عقیدہ کا کام لیا۔
    آپ انتظامی امور میں مہارت کی حد تک سوجھ بوجھ رکھتے تھے ،یہی وجہ تھی کہ کئی مدارس نے آپ کو صدر المدرسین کے عہدہ کے لیے منتخب کیا اور آپ نے اس کا حق بھی ادا کیا،ملک کی مانی جانی درس گاہ دارالعلوم فیض الرسول سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد مدرسہ اسلامیہ رفاقت العلوم ولی نگر بارہ بنکی پھر جامعہ لطیفیہ چھاؤنی بازار ،بستی کے اصحابِ حل عقد نے آپ کو صدر المدرسین متعین کیا،اس کے بعد وطن مالوف میں خود بنا کردہ دارالعلوم محمد یہ اہل سنت فیض غوثیہ کی ذمہ اپنے سر لی اور اس کی تعمیر و ترقی کے لیے اس طرح سر گرداں ہو گئے کہ دارالعلوم کے قیام کو زیادہ مدت گزرنے نہ پائی تھی کہ مجاہد دوراں حضرت علامہ سید مظفر حسین کچھو چھوی علیہ الرحمہ کو یہ کہنا پڑاتھا کہ:
    ''دارالعلوم کے قیام کو ابھی صرف چار ہوئے لیکن اتنی کم مدت میں مدرسہ نے تعلیمی و تعمیری کام میں جو ترقی کی ہے اس کے متعلق صرف اتنا کہنا کافی ہے کہ حضرت مولانا اشفاق احمد صدیقی صاحب اور ان کے رفقاے کار کی بے پناہ کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ اس کو ردہ علاقے میں جہاں مسلمانوں کی تعداد برائے نام ہے،دارالعلوم قائم کرکے مسلمانوں میں جذبہئ تعلیم پیدا کرنا یہ صرف موصوف کی کرامت ہے۔''
    آپ میدانِ تدریس میں بھی مثالی حیثیت رکھتے تھے،میری ابتدائی تعلیم حضرت ہی کے زیر سایہ ہوئی ،ہمارے مستقل استاذ حضرت مولانا افروز احمد علیمی صاحب قبلہ تھے ،شفق صاحب قبلہ تبلیغی دوروں اور انتظامی ذمہ داریوں کی وجہ مستقل درس تو نہیں دے پاتے تھے مگر گاہے بہ گاہے جب رگ معلمیت پھڑکتی تھی تو درس گاہ میں آیا کرتے تھے، اور اپنے اچھوتے اور انتہائی پر اثر انداز میں ہم لوگوں کو اپنی تدریس سے مستفیض کیا کرتے تھے۔اس وقت میں بہت کمسن تھا ،مجھ میں اتنی سمجھ نہ تھی کہ آپ کے طریقہ تدریس کی عمدگی سمجھ سکوں مگر اتنا تو یاد ہے کہ جو سبق حضرت پڑھاتے تھے اسے رات میں بہت زیادہ یاد کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔
    آپ کی شخصیت انتہائی با رعب اور متأثر کن تھی لیکن آپ نخوت کے بجاے لوگوں سے شفقت و مہربانی کے ساتھ ملتے تھے،نرم خوئی آپ کی طبیعت کا طرۂ امتیاز تھا،چھوٹا بڑا ،امیر غریب ،خواندہ ناخواندہ جو بھی آپ سے ایک بار مل لیتادوبارہ ملنے خواہش مند ہو جاتا،مزاج میں انکسار کا عالم یہ تھا کہ علم و فضل کا گنجینہ ہو نے باوجود ہما شما سب کی باتیں اس انداز میں سنتے گویا کسی بہت ہی عمر رسیدہ حکیم سے گفتگو کر رہے ہوں لیکن یہی سیدھا سادہ اور کچھ حد تک سادہ لوح انسان دشمنانِ رسول کے لیے حد درجہ سخت ہو جاتا،بد عقیدوں کے لیے آپ نے زبان کی تلوار کے علاوہ' لاٹھی 'کا بھی استعمال کرنے میں ذرہ برابر ہچکچاہٹ نہ محسوس کی ۔
    وعظ و خطابت تو آپ کا خاص میدان تھا ،جہاں بھی اور جس مجلس میں گئے اپنی جادو بیانی سے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا،مجمع عوام کا ہو یا پھر خواص کا سب میں آپ کا رنگ برابر چڑھتا تھا،راقم الحروف نے آپ کو ہزاروں کے مجمع کو خطاب کرتے ہوئے دیکھا ہے اور چند دیہاتیوں کے بھی۔غیر تعلیم یافتہ یا کم تعلیم یافتہ شخص بھی آپ کی خطابت سے اسی طرح محظوظ ہوتا جس طرح ایک تعلیم یافتہ ۔روز مرہ کی مثالوں اور علم و فن کے جواہر پاروں سے مضمون کو آراستہ کرکے ایسے دل نشیں پیراے میں پیش کرتے کہ ننداسی آنکھیں جاگ اٹھتیں۔لوگ ہمہ تن داد بن کر آپ کی خوش مقالی پر نعرہ ٔتحسین بلند کرتے۔
    مجھے بارہا آپ کے تقریری پروگراموں میں رفاقت کا موقع نصیب رہا ،غالباً ٢٠٠٢ء کی بات ہے جب آپ کے ساتھ بارہ بنکی جا نے کا اتفاق ہو اتھا،نکلے تو تھے صرف ایک پروگرام کے لیے مگر وہاں جاکر پورا ہفتہ رکنا پڑا،حضرت کے معتقدین کو جیسے ہی آپ کی آمد کی اطلاع ہوئی، پروگرام پر پروگرام منعقد کرنا شروع کر دیا،ایسا بھی ہوا کہ ایک ہی رات دو مجلسوں میں شریک ہونا پڑا ۔یہ آپ کی مقبولیت اور ہر دل عزیزی کا بین ثبوت تھا۔
    بزرگوں سے آپ کی عقیدت قابل رشک تھی ،دارالعلوم محمدیہ (بیراگل) کے بورڈ پر آپ نے 'بہ فیضانِ حضور شعیب الاولیا علیہ الرحمۃ و الرضوان 'تحریر کرایا ہے ، کئی دفعہ ایسا ہواہے کہ حضرت مدرسہ میں تشریف لاتے اور چارپائی پر لیٹ کر اسی بورڈ کو پڑھتے اور پھر خود ہی 'شعیب الاولیا زندہ باد کا نعرہ 'لگاتے،لوگ اسے کوئی بھی معنی پہنائیں مگر میں اس زمانے میں اسے' فنا فی الشیخ' کی ایک مثال سمجھتا ہوں۔
    بیراگل(بستی )کی سر زمین پر آپ نے آب زر سے لکھے جانے کے قابل نقوش ثبت کیے،ان میں ایک عظیم الشان دو منزلہ دارالعلوم ہے جس میں درجات پرائمری سے لے کر حفظ و قرأت اور درس نظامی تک کی تعلیم و تعلم کا انتظام ہے،اس کے علاوہ پر شکوہ مسجدغوثیہ اور وسیع وعریض عید گاہ غوثیہ بھی آپ ہی کی محنتوں کا نتیجہ ہیں،اس دورِ انحطاط میں جب کہ دنیاداری ایک عام وبا ہو چلی ہے اتنے بڑے کارنامے بہر طورقابل قدروستائش ہیں۔
     ادھر چند برسوں سے کچھ وجوہات کی بنا پرآپ کچھوچھہ شریف میں قیام پزیر تھے اور حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ کی درگاہ پر برابر حاضری دیا کرتے تھے،حتی کہ وصال کی رات جب آپ کو قلب میں عارضہ کا احساس ہوا تو درگاہ شریف تشریف لے گئے اور وہیں آستانے کے سامنے فاتحہ خوانی کی حالت میں روح قفس عنصری سے آزاد ہوئی۔٢٣ربیع الاول ١٤٣٤ھ کی سرد رات تھی ،بادل بھی اشک بار معلوم ہو رہے تھے کیونکہ اسی رات ساڑھے نو بجے کے قریب قوم اس محسن قوم سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو گئی ۔(مولیٰ تعالیٰ ان کی بے لوث خدمات کو قبول فرما کراپنی جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے) ۔آمین!
شائع شدہ:فیضانِ رضا فروری٢٠١٣ءدارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یو پی

Post a Comment

0 Comments