![]() |
| photo credit to google |
حصول علم اور خواتین
خواتین
کے بارے میں دو مختلف رائیں پائی جاتی ہیں ، پہلی رائے کے مطابق عورتوں کو مردوں
کے شانہ بہ شانہ زندگی کے ہر ہر شعبے میں کود پڑنا چاہیے، مرد وزن میں کو ئی امتیاز
ہے ہی نہیں ، جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ عورتوں کو گھر کی چہار دیواری کے اندر مقید
کردینا چاہیے، ان کا تعلق امور خانہ داری کے علاوہ کسی چیز سے نہیں ہونا چاہیے، نہ
تو ان کو پڑھنے کا حق ہے اور نہ ہی اپنے مستقبل کو روشن کرنے کا ۔
یہ
دونوں متضاد خیالات ہیں اور دونوں ہی ناقابل قبول ہیں ، عورت کے بغیر انسانی سماج
کچھ بھی نہیں ، اس کو پورے طور نظر اندازکرنا حد درجہ حماقت کی بات ہے، اور اسی
طرح اس کو پورے طورآزاد کر دینا انسانی سماج کی بربادی ہے۔
مذہب
اسلام ان دونوں کے بیچ کا راستہ اختیار کرتا ہے ، وہ عورتوں کی فطری نازکی کا لحاظ
کرتے ہوئے شرائط و قیود کے ساتھ ہراس میدان عمل آنے کی اجازت دیتا ہے، جن کی انھیں
دنیوی یا اخروی اعتبار سےضرورت ہے۔
علم
تمام کمالات اور خوبیوں کا سرچشمہ ہے اور جہالت تمام برائیوں کی جڑ ہے ، بے علم نہ
تو دنیوی سعادت مندی پا سکتا ہے ، نہ ہی اس کے لیے اخروی فیروزبختی کی امید ہے،
لہذا علم حاصل کرنے کا حکم مرد و عورت سب کے لیے ہے ، علم حاصل کرنا جتنا ایک مرد
پر فرض ہے اتنا
ہی ایک عورت پر فرض ہے۔
چنانچہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
( طَلْبُ الْعِلْمِ فَرِيْضَةٌ عَلٰى كُلِّ
مُسْلَمٍ )[[1]]علم
حاصل کرنا ہر مسلمان پر(بلا تفریق مرد وزن
) فرض ہے۔
قرآن
کریم میں ہے : قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الۡاَعْمٰی وَ الْبَصِیۡرُ[[2]]تم
فرماؤ کیا برابر ہوجائیں گے اندھے اور انکھیارے ]
اس آیت
کریمہ کی تفسیر میں مفسرین نے فرمایا ہے کہ اندھا سے مراد جاہل اور انکھیارہ سے
مراد عالم ہے۔[[3]]
دوسری
آیت کریمہ میں اسی مضمون کو یوں بیان کیا گیا ہے :
قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الَّذِیۡنَ یَعْلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ
لَا یَعْلَمُوۡنَ ۔تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے والے
اور انجان ۔یعنی برابر نہیں ہیں۔
ایک آیت
کریمہ میں علم دین کی اہمیت کو یوں دوبالا کیا گیا ہے:یُّؤۡتِی
الْحِکْمَۃَ مَنۡ یَّشَآءُۚ وَمَنۡ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوۡتِیَ خَیۡرًا
کَثِیۡرًا۔[اللّٰہ حکمت دیتا ہے جسے چاہے اور جسے
حکمت مِلی اُسے بہت بھلائی ملی ]
تفسیر
خازن و غیرہ میں ہے کہ یہاں پر ’’حکمت‘‘ سے مراد قرآن و حدیث اور فقہ کا علم ہے یا
تقویٰ یا نبوت۔
علم کی
فرضیت میں تاکید پیدا کرنے کے لیے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
(اطْلُبُوا الْعِلْمَ وَلَوْ بِالصِّينِ
فَإِنَّ طَلَبَ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ)[[4]]علم
حاصل کرو اگرچہ چین ہی کیوں نہ جانا پڑے، اس لیے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر
فرض ہے،
اسی طرح ایک اور موقع پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
(وَمَنْ سَلَكَ طَرِيْقًا يَلْتَمِسُ فِيْهِ
عِلْمًا، سَهَّلَ اللهُ لَهٗ بِهٖ طَرِيْقًا إلٰى الْجَنَّةِ )[[5]]
جو شخص طلب علم کے
لیے کسی راستہ پر چلا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کاراستہ آسان کر دیتا
ہے۔
اور خاص
طور پر عورتوں کی تعلیم کے لیے خود نبی کریم ﷺ نے اہتمام فرمایا ہے:
حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ
قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ
ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَتْ النِّسَاءُ
لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَلَبَنَا عَلَيْكَ الرِّجَالُ
فَاجْعَلْ لَنَا يَوْمًا مِنْ نَفْسِكَ فَوَعَدَهُنَّ يَوْمًا لَقِيَهُنَّ فِيهِ
فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ۔[[6]]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عورتیں
حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں عرض گذار ہوئیں: آپ کی جانب مرد ہم سے آگے نکل گیے،
لہذا ہمارے استفادہ کے لیے بھی ایک دن مقرر فرما دیجیے، آپ ﷺ نے ان کے لیے ایک دن
مقرر فرمادیا، اس دن آپ ﷺ ان سے ملتے اور انھیں نصیحت فرماتے، اور انھیں اللہ
تعالیٰ کے احکام بتاتے۔
یہاں پر
ایک بات کی ضروری ہے وہ یہ کہ قرآن وحدیث میں جہاں ایسے احکام بیان کیے گیے ہیں
جو مردوعورت دونوں کے لیے عام ہیں وہاں پر مردوں کو ہی مخاطب کیا گیا ہے ، صیغہ
مذکر کا ہی لایا گیا ہے ، مگر اس سے مراد دونوں ہوتے ہیں ، لہذا جن آیتوں اور حدیثوں
سے مردوں کی تعلیم فرض ہوتی ہے ، انھیں آیتوں اور حدیثوں سے عورتوں کی تعلیم بھی
فرض ہوتی ہے۔
حقیقت حال
خواتین
کی تعلیم کے لیے قرآن و حدیث میں واضح احکام ہونے کے باوجود حقیقت کیا ہے کہ اس
کو جاننے کے لیے مندرجہ ذیل حقائق کا بغور مطالعہ کیجیے:
’’۲۰۰۰۔۲۰۰۱ء میں Muslim
women's survery(خواتین اسلام سروے) ہوا، جس میں ۱۲ ؍صوبوں کے ۴۰؍اضلاع میں ہندو اور مسلم
خواتین کے حالات پر سروے کیا گیا، اس کے نتائج کچھ اس طرح تھے:
۱۔ تقریباً ۶۰؍فیصدمسلم عورتوں نے خود
کو غیر تعلیم یافتہ اور جاہل بتایا ۔
۲۔صرف ۴۰؍فیصد مسلم بچیوں کا اسکو
ل میں اندراج تھا۔
۳۔ شمالی ہند میں اَن پڑھ
خواتین اسلام کی تعداد ہندوستان کے دوسرے علاقوں سے نسبتاً زیادہ ہے،چنانچہ یہاں کی
مسلم خواتین میں سے تقریباً ۸۵؍فیصد
نے خود کو اَنْ پَڑھ ظاہرکیا۔
لمحۂ
فکریہ
ذرا غور
کریں !
عورتوں
کی آبادی تقریباً ۵۰؍فیصد
ہوتی ہے ، کیا اس طرح سے اپنی آدھی آبادی کو نظر انداز کرکے کسی قوم کا بھلا ہو
سکتا ہے؟۔۔کیا وہ شاہ راہِ ترقی پر گامزن ہو سکتی ہے ؟
آپ
جانتے ہیں کہ آپ کس کو نظر انداز کررہے ہیں ۔۔۔۔؟آپ اس کو نظر انداز کررہے ہیں
۔۔
جس کی
گود کو پہلا مدرسہ اور اسکول کہا گیاہے۔
جس کے
ذمہ اولاد کی تربیت ہوتی ہے۔
جس کے
بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے دو عورتوں کا ہاتھ ہوتا ہے، ایک
اس کی ماں کا ،دوسرا اس کی بیوی کا ۔
جس کے
بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک عورت کی تعلیم پورے خاندان کی تعلیم ہے۔
مذہبی
نقطہ نگاہ سے دیکھیں تو کیا عورتوں پر نماز، روزہ ، زکاۃ اور حج فرض نہیں ہیں ؟ ہیں
اور بلاشبہ فرض ہیں، لہذاان کی ادائیگی کے طریقے ، ان کے احکام وغیرہ کا جاننا بھی
فرض ہے ، تو کیا بغیر تعلیم کے یہ تمام باتیں از خود حاصل ہو جائیں گی؟ نہیں اور
ہرگز نہیں ،لہذا عورتوں کی تعلیم از بس ضروری ہے۔


0 Comments