Time & Date

Ticker

6/recent/ticker-posts

social distancing aik ghalat istilah

عام لوگوں کی سماعتوں تک امریکہ سے چل کر ایک لفظ آیا، وہائٹ ہاؤس سے امریکی صدر نے جب بھارت کو دھمکی دی کہ بھارت اگر ہائیڈروکسی کلوروکوین کی سپلائی نہیں کرے گا تو ہم اس پر جوابی کاروائی کریں گے اور کاہے نہ کریں، تب سے ہم بھارتیوں کو اس دوا کا نام لینے میں اتنی ہی تکلیف ہو رہی ہے جتنی کی صدر ٹرمپ کو سچن تندولکر کا نام لینے میں ہوئی تھی، میں پوری ایمان داری سے کہتا ہوں کہ میں خود اس لفظ کا تلفظ لکھ کر سیکھا ہوں وہ بھی اردو میں۔۔

سماجی دوری ایک عجیب وغریب اصطلاح

جب سے کورونا وائرس آیا ہے  اپنے ساتھ بڑے عجیب وغریب الفاظ بھی لایا ہے، quarantine جس کو اردو میں قرنطینہ بنایا گیا ہے، پھر اسی سے ایک لفظ اور سننے میں آیا ہوم کورنٹین، ایک لفظ Isolation بھی خوب زبان پر چڑھا اور پھر اسی سے ایک سیلف آئسولیشن خوب چرچا میں ہے، ایک لفظ سوشل ڈسٹنسنگ بھی اپنے پورے آب وتاب کے ساتھ آیا اور زبان زد خاص وعام ہو گیا، اس کے بعد تلفظ میں آسان لیکن گھومنے پھرنے ، کھیلنے کودنے ، قہوہ نوازوں اورچائے بازوں کے لیے حد درجہ تکلیف دہ لفظ لاک ڈاؤن یعنی تالابندی آیا یقین مانئے کہ اس وقت تالا بندی کو سمجھنے والوں کی تعداد اتنی نہیں جتنی کہ لاک ڈاؤن سمجھنے والوں کی ہے۔ اس کے بعد عام لوگوں کی سماعتوں تک امریکہ سے چل کر ایک لفظ آیا، وہائٹ ہاؤس سے امریکی صدر نے جب بھارت کو دھمکی دی کہ بھارت اگر ہائیڈروکسی کلوروکوین کی سپلائی نہیں کرے گا تو ہم اس پر جوابی کاروائی کریں گے اور کاہے نہ کریں، تب سے ہم بھارتیوں کو اس دوا کا نام لینے میں اتنی ہی تکلیف ہو رہی ہے جتنی کی صدر ٹرمپ کو سچن تندولکر کا نام لینے میں ہوئی تھی، میں پوری ایمان داری سے کہتا ہوں کہ میں خود اس لفظ کا تلفظ لکھ کر سیکھا ہوں وہ بھی اردو میں۔۔
ان تمام میں ذاتی طور پر مجھے جو لفظ سب سے زیادہ عجیب لگا، وہ ہے سوشل ڈسٹنسنگ۔۔کیوں کہ سماج میں کھائی کھودنے والے اسے بالکل اس کے لفظی معنی پر ہی محمول کر گیے، اور پکڑ لیا کچھ جماعتیوں کو، جو بیمار تھے ، وہ بھی کورونا وائرس سے، اور کہہ دیا کہ یہ لوگ کورونا جہاد کر رہے ہیں، مطلب بیوقوفی کی بھی کوئی نہ کوئی انتہا تو ہوگی ہی۔ اگر ہوگی تو بس یہی ہے،ارے جماعتیوں کا کام جو آج تک میری سمجھ میں آیا وہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں ہی سے کلمہ پڑھواتے ہیں، اور پھربھارت سرکار کے پاس اس کی رپورٹ بھی ہے کہ یہ لوگ صرف زمین کے نیچے کی بات کرتے ہیں یا آسمان کے اوپر کی۔۔وائرس  بنانے اسے پھیلانے کا کام تو بڑی بڑی حکومتوں کا ہوتا ہے۔۔۔چلیے آسان لفظوں میں سمجھنے کے لیے ایک سوال اور پھر اس کا جواب۔۔۔ سوال: کمپیوٹر وائرس کون بناتا ہے؟ جواب: انٹی وائرس کمپنیاں۔۔
بہرحال میں کہہ رہا تھا کہ مجھے سوشل ڈسٹنسنگ عجیب لگا، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ میں گھومنے پھرنے والاآدمی ہوں، بلکہ اس اصطلاح سے مجھے پریشانی ہے کیوں کہ اس کا لفظی معنی تو وہی ہوتا ہے جس کو شدت پسند ، ہندتوا نواز اور خود برسراقتدار پارٹی کے کچھ نیتاؤں نے سمجھا ہے کہ مسلمانوں سے جتنی دوری بنا سکتے ہو ، بناؤ۔اسی لیے وہ لوگ غریب سبزی بیچنے والے کو اپنی آبادی میں گھسنے نہیں دیتے، اپنی آبادیوں میں اعلان کرا دیتے ہیں کہ مسلمانوں کا اندر آنا منع ہے، اپنے لوگوں کے ذہن ودماغ میں بٹھا دیتے ہیں مسلمانوں کا اقتصادی بائیکاٹ کرو، سوشل میڈیا پر کمپین چلاتے ہیں، ٹویٹر پر ہیش ٹیگ چلاتے ہیں، خدا جانے کیا کیا کرتے ہیں۔۔
کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا میں جس طرح دھڑادھڑ موتیں ہو رہی ہیں بالکل اسی طرح سے یہ وائرس بھی ایک دن مر جائے گا، جس کا یقین یقینا سب کو ہے، لیکن سماجی دوری اگر اسی طرح سے بڑھتی رہی تو یہ کورونا وائرس سے زیادہ خطرناک ثابت ہوگی، تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا میں اس سے پہلے بھی بہت سی وبائیں آئی ہیں، ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ان سب میں اکثریتی طبقوں نے اقلیتی طبقوں پر ان کے پھیلانے کا الزام رکھا، مگر وہ وقت دوسرا تھا اور یہ وقت دوسرا ہے، وہ بادشاہی دور تھا اور یہ جمہوری دور ہے ، یہ بات انھیں بھی یاد رکھنی چاہیے جولوگ اچھل اچھل کر شدت پسندوں کا ایجنڈا آگے بڑھا رہے ہیں۔کیوں کہ اگر یہ لوگ بادشاہوں کے دور کی انسانیت کش حالات پیدا کررہے ہیں، تو خود بھی پرجا اور رعایا بننے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔۔
جب سے یہ بیماری آئی ہے ہم دیکھ رہے ہیں کہ حکومتیں عام لوگوں کا بہت زیادہ خیال نہیں رکھ پائی ہیں، ان کی ضروریات پوری کرنے میں ناکام رہی ہیں، ہزاروں کروڑوں لوگوں کو تالا بندی کی وجہ دووقت کی روٹی نصیب نہیں ہو رہی ہے، تو کچھ لوگ نکل کر سامنے آرہے ہیں ’’سماجی دوریوں‘‘ کو توڑ کر اور ’’جسمانی دوری‘‘ بنا کر لوگوں کی ضرورتیں پوری کر رہے ہیں، ایک دوسرے کے کام آرہے ہیں، آنا بھی چاہیے آخر انسان ایک سماجی جانور ہی ہے۔۔۔۔
سوشل ڈسٹنسنگ  سے بیماری کم نہیں ہوگی بلکہ کئی نئی بیماریاں پیدا ہو ں گی، صحیح لفظ ’’Physical Distancing ‘‘ یعنی جسمانی دوری ہے، اچھی بات ہے کہ بہت سے لوگوں نے یہی مطلب سمجھا ، جب سے یہ بیماری آئی ہے ہم دیکھ رہے ہیں کہ حکومتیں عام لوگوں کا بہت زیادہ خیال نہیں رکھ پائی ہیں، ان کی ضروریات پوری کرنے میں ناکام رہی ہیں، ہزاروں کروڑوں لوگوں کو تالا بندی کی وجہ دووقت کی روٹی نصیب نہیں ہو رہی ہے، تو کچھ لوگ نکل کر سامنے آرہے ہیں ’’سماجی دوریوں‘‘ کو توڑ کر اور ’’جسمانی دوری‘‘ بنا کر لوگوں کی ضرورتیں پوری کر رہے ہیں، ایک دوسرے کے کام آرہے ہیں، آنا بھی چاہیے آخر انسان ایک سماجی جانور ہی ہے۔۔۔۔


Post a Comment

0 Comments