تیرہ و تار تھی کچھ یوں ہی شبستانِ حیات
دامن چرخ سے اک اور ستارہ ٹوٹا
٨/رمضان المبارک ٤١ھ کو یہ الم ناک خبر موصول ہوئی کہ ہمارے دیرینہ رفیق اور عالم ربانی حضرت علامہ مولانا الحاج عبد الستار مصباحی کو خدائےارحم الراحمين نے رحمت والے مہینہ میں اپنے جوار رحمت میں بلا لیا.
انا للہ وانا الیہ راجعون. حضرت علامہ موصوف کی رحلت طلبۂ واساتذۂ مدارس ائمۂ مساجد اور خطبائے کرام سب کے لیے یقیناً بے پناہ رنج و الم کا باعث ہے. بالخصوص میرے لیے تو بہت ہی افسردگی اور ملال کا سامان ہے. عہد طالب علمی میں فقیہ عالم اسلام شارح بخاری حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی قدس سرہ کے حجرہ میں ایک عرصۂ دراز تک مجھے حضرت مولانا موصوف کی نفع بخش رفاقت میسر رہی ہے.
دل میں یہی ارمان مچلتا ہے پرانے دنوں کی رفاقت یاد کرکے.
پھر دکھا دے یا الہی وہی صبح و شام تو
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو
فراغت کے بعد بھی حضرت مولانا موصوف سے گہرے روابط برقرار رہےجس کی وجہ یہ ہے کہ مولانا موصوف کا آبائی وطن پرسالال شاہی ہے جو دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی سے متصل آبادی ہے جہاں مجھے اپنے عمر عزیز کا بیشتر حصہ نثار کرنے کا فخر و شرف حاصل ہے.
حضرت علامہ موصوف ممبئ عظمی کی مرکزی سنی درس گاہ دارالعلوم قادریہ دو ٹانکی میں ایک طویل عرصہ تک شیخ الحدیث کے منصب پر فائز رہے اور خیرانی روڈ کی ایک عظیم الشان مسجد ( غوثیہ مسجد) میں امامت و خطابت کے ساتھ قوم و ملت کی رہنمائی و قیادت کا فریضہ انجام بھی دیتے رہے اور ممبئ کی سر زمین پر ان گنے چنے علما میں شمار کیے جاتے تھے جن پر اہل سنت کو پورا اعتماد ہے. خدائے غافر و قدیر مولانا موصوف کی ملی خدمات پر اپنے شایانِ شان صلہ مرحمت فرمائے اور ان کی قبر پر رحمت و انوار کی بارش فرمائے اور پس ماندگان کو صبرِ جمیل اور اجرِ جزیل عطا فرمائے.آمین
اور ان کے برادر محترم عالی جناب ماسٹر شرافت علی استاذ دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی کے غم میں شریک ہوتے ہوئے ان کو تعزیت پیش کرتا ہوں اور ان کو صبر کی تلقین کرتا ہوں.
دعاگو
فروغ احمد اعظمی مصباحی
شیخ الحدیث دارالعلوم مدینۃ العربیہ دوست پور سلطان پور
مقیم حال کریم الدین پور گھوسی مئو
٩/رمضان المبارک ٤١ھ

0 Comments