Time & Date

Ticker

6/recent/ticker-posts

qadiyaniyat aur tahreek-e- tahaffuze khatme nabuwat

 

آج سے ۲۲؍سال پہلے استاذی الکریم ،استاذ الاساتذہ حضرت علامہ فروغ احمد اعظمی مصباحی، شیخ الحدیث دارالعلوم مدینۃ العربیہ، دوست پور، و سابق صدر المدرسین دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی  نے اس موضوع پر اپنا زرنگار قلم اٹھایا اور ’’قادیانیت او ر تحریک تحفظ ختم نبوت‘‘ سے معنون مختصر، مگر جامع کتاب ترتیب  دی،جسے بے پناہ مقبولیت ملی، ۲۰۰۰ء؁ سے اب تک  اس کے تین ایڈیشن چھپ چکے ہیں، دو ایڈیشن ہندوستان سے  اور تیسرا پاکستان سے۔ اس کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ خود حضرت  کے پاس ریکارڈ میں ایک ایڈیشن کا صرف ایک نسخہ ہے وہ بھی کرم خوردہ۔

کتاب کے تعلق سے چند مشاہیر علما ومفکرین کے تاثرات ملاحظہ فرمائیں:

۱۔ فقیہ ملت، حضرت علامہ مفتی جلال الدین امجدی علیہ الرحمہ ، بانی مرکز تربیت افتا، اوجھا گنج، ضلع بستی، یوپی۔

’’فاضل جلیل، حضرت مولانا فروغ احمد اعظمی مصباحی زید مجدہم، شیخ الادب دارالعلوم علیمیہ  جمدا شاہی، ضلع بستی کی تصنیف ’’قادیانیت اورتحریک تحفظ ختم نبوت‘‘ کا ہم نے مطالعہ کیا۔

ماشاء اللہ کتاب بہت خوب ہے ، جس میں قرآن وحدیث کے ٹھوس دلائل سے ثابت کیا  گیا ہے کہ عقیدۂ ختم نبوت ضروریات دین میں سے ہے، لہذا اس کا انکار کرنے والا کافر ومرتد ہے۔‘‘

۲۔ رئیس القلم حضرت علامہ یٰسین اختر مصباحی[مدظلہ العالی]، بانی دار القلم ، دہلی

’’یہ مقالہ(کتاب)  قادیانیت اور اس کے گمراہ کن افکاروخیالات سے متعلق تھا، عہدِ رسالت مآب ﷺ سے دور حاضر تک دنیا کے مختلف حصوں میں بے شمار خبط الحواس انسانوں نے نبوت کا دعویٰ کیا اور ہزاروں لاکھوں انسانوں کو اپنی شعبدہ بازیوں کے پر فریب جال کا شکار بنایا۔

۔۔۔ فاضل مقالہ نگار مولانا فروغ احمد اعظمی مصباحی نے سلیقہ اور حسن ترتیب کے ساتھ اس موضوع پر اپنی تحقیق ومطالعہ کا خلاصہ پیش کیا ہے اور علماے اہل سنت نے مرزا غلام احمد قادیانی کذّاب ودجّال کے خلاف جو زبانی و تحریری خدمات انجام دی ہیں ان کا اختصار واجمال کے ساتھ ذکر کیا ہے ،یہ کوشش قابل تحسین اور لائق تبریک ہے۔‘‘

۳۔ معین العلما حضرت علامہ معین الحق علیمی علیہ الرحمہ، سابق صدر اعلیٰ دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، ضلع بستی۔

’’زیرِ نظر کتاب ’’قادیانیت اور تحریک تحفظ ختم نبوت‘‘ جو اپنے نام ہی سے اپنے موضوع اور مندرجات کے حق میں اجمالی تعارف ہے  ، یہ بھی قادیانیت کش اور اس کا حرف حرف مرزا شکن ہے۔‘‘

۴۔ حضرت علامہ ڈاکٹر محمد عاصم اعظمی، شیخ الحدیث جامعہ شمس العلوم ، گھوسی، ضلع مئو

’’ اس کتاب میں بھی انھوں نے(مولف نے)     اپنے وسیع مطالعہ اور تحقیقی شعور کا مرقع پیش کیا ہے اور امت مسلمہ کو مرزائی دجل وفریب سے باخبر کرنے کی جدوجہد کی ہے، یقیناً یہ قلمی کاوش لائق تحسین وآفرین ہے، دعا ہے کہ پرور دگار عالم خاتم المرسلینﷺ کے صدقے میں مولانا کی اس تصنیف کو قبول عام کا درجہ عطا فرمائے اور مولانا کو مزید تصنیفی وتحریری کاموں کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔‘‘

۴۔حضرت علامہ ڈاکٹر شکیل احمد اعظمی مصباحی علیہ الرحمہ، سابق صدر المدرسین دارالعلوم مدینۃ العربیہ، دوست پور، ضلع سلطان پور۔

’’ کتاب کی زبان بڑی سنجیدہ، شستہ،شگفتہ اور سلاست وروانی سے لب ریز ہے عام فہم لب ولہجہ روز مرہ اور بول چال کے الفاظ کو جگہ دی گئی ہے، اسی لیے یہ کتاب عوام وخواص سب کے لیے یکساں مفید ہے ، انداز تفہیم بھی بڑا انوکھا اور دل نشیں ہے۔‘‘


 کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں: علیمی کتب خانہ ، جمدا شاہی، ضلع بستی یوپی

آن لائن استفادہ کے لیے یہاں کلک کریں۔


غلام سید علی علیمی

دارالعلوم مدینۃ العربیہ، دوست پور، ضلع سلطان پور

Post a Comment

0 Comments